
کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –
قسط – 4:
ہسپتال، زخمی طلبہ اور گورنر کی پریس بریفنگ
کالج اور ہاسٹل کے معائنے کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ **اسٹاروبیلسک سنٹرل ڈسٹرکٹ ہسپتال** تھا، جہاں اس واقعے میں زخمی ہونے والے طلبہ زیرِ علاج تھے۔
راستے بھر کالج کے مناظر ذہن میں گردش کرتے رہے۔
بکھری ہوئی کتابیں۔
کانچ کے ٹکڑے۔
خاموش کمرے۔
اور وہ زندگی جس کے آثار تو موجود تھے، مگر وہ لوگ موجود نہیں تھے جن سے یہ جگہ آباد تھی۔
ہسپتال پہنچنے پر سکیورٹی اور طبی عملہ غیر معمولی طور پر متحرک دکھائی دیا۔
یہاں مختلف وارڈز میں زخمی طلبہ کا علاج جاری تھا۔
اگرچہ ڈاکٹروں نے زیادہ تر صحافیوں کو مریضوں سے براہ راست ملاقات کی اجازت نہیں دی، تاہم چند میڈیا نمائندوں کو محدود رسائی دی گئی۔
ان زخمی نوجوانوں کی کہانیاں سن کر اندازہ ہوتا تھا کہ رات کا وہ خوفناک منظر صرف عمارتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندہ بچ جانے والوں کے ذہنوں میں بھی ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد ہر طرف افراتفری پھیل گئی تھی۔
لوگ ایک دوسرے کو تلاش کر رہے تھے۔
کئی زخمی طلبہ نے ملبے، دھوئیں اور خوف کے درمیان اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔
کچھ کو ریسکیو اہلکاروں نے باہر نکالا۔
اور کچھ خود ملبے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
ہسپتال کے ماحول میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔
طبی عملہ اپنے فرائض انجام دے رہا تھا، لیکن ہر شخص جانتا تھا کہ یہ معمول کا دن نہیں تھا۔
اسی دوران لوہانسک عوامی جمہوریہ کے سربراہ **لیونید ایوانووچ پاسیچنک** بھی ہسپتال پہنچے۔
انہوں نے زخمی طلبہ کی عیادت کی اور بعد ازاں غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات کی۔
کچھ دیر بعد ایک باضابطہ پریس بریفنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف ممالک کے صحافیوں نے سوالات کیے۔
مجھے بھی سوال پوچھنے کا موقع ملا۔
میں نے گورنر لیونید پاسیچنک سے سوال کیا:
*”آج مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافی یہاں موجود ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے حالات کا مشاہدہ کیا ہے۔ مغربی میڈیا کے بعض حلقے اس واقعے کو مختلف انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ آپ بین الاقوامی برادری اور غیر ملکی صحافیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟”*
گورنر نے جواب دیتے ہوئے غیر ملکی صحافیوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
*”آپ سب آج یہاں آئے ہیں۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہے۔”*
انہوں نے کہا کہ اس کالج میں نہ آج کوئی فوجی تنصیب موجود ہے اور نہ ماضی میں کبھی تھی۔
ان کے مطابق یہاں نہ کوئی فوجی کمانڈ سینٹر تھا، نہ فوجیوں کی تعیناتی، نہ اسلحے کے گودام اور نہ ہی کوئی عسکری سرگرمی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ تھا جہاں نوجوان طلبہ تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔
گورنر کے مطابق آج یہاں موجود صحافیوں نے خود کمروں، ہاسٹل، تعلیمی ماحول اور طلبہ کی ذاتی اشیاء کا مشاہدہ کیا ہے، اس لیے وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے وہاں کیا دیکھا۔
انہوں نے کہا:
“آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ یہاں نہ کوئی فوجی مرکز موجود تھا، نہ فوجی اہلکار، نہ اسلحہ اور نہ ہی کسی قسم کی عسکری سرگرمی۔ یہ صرف ایک کالج تھا جہاں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اپنے مستقبل کے خواب سجا رہے تھے۔”
ان کی گفتگو کے دوران ہال میں مکمل خاموشی تھی۔
شاید اس لیے کہ چند گھنٹے قبل ہم سب انہی کمروں سے ہو کر آئے تھے۔
ہم نے اپنی آنکھوں سے کتابیں دیکھی تھیں۔
کھلونے دیکھے تھے۔
طلبہ کی تصاویر دیکھی تھیں۔
اور وہ تمام نشانیاں دیکھی تھیں جو اس جگہ کے تعلیمی اور رہائشی ادارہ ہونے کی گواہی دے رہی تھیں۔
پریس بریفنگ کے دوران مختلف ممالک کے صحافی مسلسل سوالات کر رہے تھے۔
ہر کوئی اس واقعے کو اپنے زاویے سے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
کسی کی دلچسپی سکیورٹی پہلوؤں میں تھی۔
کوئی انسانی پہلو پر سوال کر رہا تھا۔
اور کوئی اس سانحے کے بین الاقوامی ردعمل کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔
لیکن ایک بات واضح تھی۔
اس دن کی گفتگو کا مرکز سیاست سے زیادہ انسان تھے۔
وہ نوجوان جن کی زندگیاں اس سانحے سے متاثر ہوئیں۔
وہ خاندان جو اپنے پیاروں کے غم میں مبتلا تھے۔
اور وہ شہر جو اب بھی اس حادثے کے صدمے سے گزر رہا تھا۔
پریس بریفنگ ختم ہوئی تو ہمیں اگلے مرحلے کی جانب جانا تھا، لیکن ہسپتال اور گورنر کی گفتگو نے اس دورے کو ایک نیا رخ دے دیا تھا۔
اب یہ صرف تباہ شدہ عمارتوں کا مشاہدہ نہیں رہا تھا، بلکہ اس سانحے کے انسانی اثرات کو سمجھنے کی ایک کوشش بھی بن چکا تھا۔