لاہور (صداۓ روس)
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے علاقے میں گاڑی کو راستہ دینے کے لیے ڈِپر مارنے پر مبینہ طور پر چند افراد نے ایک سرکاری افسر اور اس کے ساتھی پر تشدد کیا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق درخواست گزار سین حیدر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ 24 مئی کو ڈی ایچ اے فیز 5 سے مویشی منڈی جا رہے تھے کہ راستے میں ایک سیاہ رنگ کی گاڑی ان کے آگے آ گئی۔ راستہ نہ ملنے پر انہوں نے دو سے تین بار ڈِپر دیا تاکہ گاڑی راستہ دے سکے۔ درخواست گزار کے مطابق ڈِپر مارنے پر مذکورہ گاڑی میں سوار افراد نے اپنی گاڑی سڑک کے درمیان روک دی اور نیچے اتر کر ان پر حملہ کر دیا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے ڈنڈوں اور بٹوں سے تشدد کیا جس کے نتیجے میں ان کا سر پھٹ گیا، جبکہ ان کا ایک دوست بے ہوش ہوگیا۔ سین حیدر نے مزید الزام لگایا کہ تشدد کے دوران ملزمان نقد رقم، ایک قیمتی گھڑی اور سونے کی چین چھین کر موقع سے فرار ہو گئے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سڑک پر راستہ حاصل کرنے کے لیے ڈِپر مارنے کے علاوہ ان کی ملزمان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی یا تنازع نہیں تھا۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ پولیس نے درخواست کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔