ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این بی سی نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی کمپنی فاؤنڈیشن فیوچر انڈسٹریز نے یوکرین کے جنگی علاقے میں اینڈرائیڈ روبوٹس کا عملی تجربہ کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سنکیت پاٹھک کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس نوعیت کے روبوٹس کو براہ راست جنگی ماحول میں آزمایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی، جس کا تعلق امریکی صدر Donald Trump کے خاندان سے بتایا جاتا ہے، نے آزمائشی مظاہرے کے لیے فینٹم ایم کے-1 ماڈل کے دو روبوٹس یوکرین بھیجے تھے۔ ان روبوٹس کا بنیادی کام اگلے محاذوں تک گولہ بارود اور دیگر ضروری سامان پہنچانا تھا۔
سنکیت پاٹھک نے بتایا کہ ابتدائی آزمائش سے روبوٹس کی کارکردگی کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، تاہم موجودہ ماڈل میں کئی کمزوریاں بھی سامنے آئیں۔ سی این بی سی کے مطابق فینٹم ایم کے-1 کی وزن اٹھانے کی صلاحیت 20 کلوگرام سے زیادہ نہیں، جبکہ اس کا ڈھانچہ پانی سے مکمل طور پر محفوظ بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ محدود وقت تک خود مختار انداز میں کام کرنے کی صلاحیت بڑے پیمانے پر استعمال میں ایک اہم رکاوٹ سمجھی جا رہی ہے۔
کمپنی اب فینٹم 2 نامی جدید ماڈل یوکرین بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق نئے ورژن میں نمایاں تکنیکی بہتریاں شامل ہوں گی اور اس کی وزن اٹھانے کی صلاحیت موجودہ ماڈل کے مقابلے میں دوگنا ہوگی۔ فاؤنڈیشن فیوچر انڈسٹریز کا دعویٰ ہے کہ فینٹم 2 میں ایسی جدید خصوصیات شامل کی جائیں گی جنہیں “سپر مین جیسی صلاحیتیں” قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگی میدان میں روبوٹس کے استعمال سے فوجی رسد کی ترسیل اور خطرناک علاقوں میں انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کی عملی افادیت کا انحصار مستقبل میں ہونے والی مزید آزمائشوں اور تکنیکی بہتریوں پر ہوگا۔