فرانس نے روس سے آنے والے آئل ٹینکر کو تحویل میں لے لیا، صدر میکرون

Emmanuel Macron Emmanuel Macron

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

فرانسیسی صدر Emmanuel Macron نے اعلان کیا ہے کہ فرانسیسی بحریہ نے برطانیہ اور دیگر شراکت دار ممالک کے تعاون سے روس سے آنے والے ایک پابندیوں کے شکار آئل ٹینکر کو بحرِ اوقیانوس میں تحویل میں لے لیا ہے۔ صدر میکرون نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ فرانسیسی بحریہ نے “ٹاگور” نامی آئل ٹینکر کو حراست میں لیا، جو روس سے روانہ ہوا تھا اور بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی بحرِ اوقیانوس کے بین الاقوامی پانیوں میں کئی شراکت داروں، بالخصوص برطانیہ، کے تعاون سے اور سمندری قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے انجام دی گئی۔

جہازوں کی نگرانی کرنے والی سروس ویسل فائنڈر کے مطابق “ٹاگور” آئل ٹینکر مڈغاسکر کے پرچم تلے سفر کر رہا ہے۔ سروس کی ویب سائٹ کے مطابق اس جہاز نے مئی کے آغاز میں روسی شہر Murmansk کی بندرگاہ پر آخری مرتبہ لنگر انداز ہونے کا ریکارڈ درج کرایا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فرانسیسی حکام نے روس سے منسلک قرار دیے جانے والے کسی آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 20 مارچ کو فرانسیسی بحریہ نے مغربی بحیرہ روم میں “ڈینا” نامی آئل ٹینکر کے خلاف بھی آپریشن کیا تھا۔ یہ جہاز موزمبیق کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور مرمانسک سے روانہ ہوا تھا۔ صدر میکرون نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ ڈینا روس کے مبینہ “شیڈو فلیٹ” کا حصہ ہے۔ بعد ازاں 16 اپریل کو بحیرہ روم کی میری ٹائم پریفیکچر کی پریس سروس نے اطلاع دی تھی کہ جرمانہ ادا کیے جانے کے بعد فرانسیسی حکام نے ڈینا کی حراست ختم کر دی تھی۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان Maria Zakharova نے کہا ہے کہ ماسکو سمندری راستوں پر آزادانہ آمدورفت کے اصول کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔ ان کا الزام تھا کہ یورپی یونین سمندری علاقوں میں “قزاقی” جیسی کارروائیوں میں ملوث ہے اور روس اس کا مقابلہ کرے گا۔