سیوٹا میں تارکینِ وطن کے بحران کے باعث اٹلی کا سپین کے ساتھ شینگن معاہدہ معطل

Airport Airport

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

اٹلی نے سیوٹا میں تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر آمد کے باعث سپین کے ساتھ شینگن معاہدہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ لا سٹامپا کے مطابق وزارت داخلہ نے سپین کے ساتھ بحری اور فضائی سرحدیں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ امیگریشن اور سرحدی سیکیورٹی کمیٹی کی تجزیاتی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ میٹیو پیانتیدوسی اور ان کے فرانسیسی ہم منصب لارنٹ نونز کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد دونوں ممالک کے مابین پولیس تعاون کے معاہدوں کے تحت زمینی سرحد پر کنٹرول بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سے قبل 30 جولائی کو سپین اور مراکش نے سیوٹا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی واپسی پر اتفاق کیا تھا۔ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے غیر قانونی تارکینِ وطن میں اضافے کے باعث شینگن معاہدہ معطل کرنے پر غور کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کو فن لینڈ نے حمایت دی ہے، جبکہ ڈنمارک نے یورپی یونین سے سپین کی شینگن رکنیت معطل کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم جوزپ بوریل نے کہا کہ یورپی یونین کا قانون کسی ایک ریاست کی جانب سے شینگن سے کسی ریاست کو معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔