فلسطینی مسئلہ ٹائم بم بن چکا، کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، سرگئی لاوروف

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی مسئلہ ایک ’’ٹائم بم‘‘ کی صورت اختیار کر چکا ہے جو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مگر مستقبل میں کسی بھی وقت شدت کے ساتھ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔ روسی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ بعض قوتیں اقوام متحدہ کے فلسطین سے متعلق فیصلوں کو نظر انداز کرنا چاہتی ہیں اور دو ریاستی حل کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں طاقت کے استعمال کے ذریعے مسئلے کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ دوبارہ شدت کے ساتھ ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کا احساس عرب دنیا میں وسیع پیمانے پر موجود ہے، خاص طور پر عوامی سطح پر اس حوالے سے شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔

لاوروف کے مطابق دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق عالمی وعدوں کا صرف جزوی طور پر نفاذ ہوا ہے، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام برقرار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کا مستقل حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ مستقبل میں بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ دریائے اردن کا مغربی کنارہ اور غزہ فلسطینی علاقوں کے دو اہم حصے ہیں، جن میں سے مغربی کنارہ 1967 سے اسرائیلی کنٹرول میں ہے، جبکہ اقوام متحدہ ان علاقوں میں اسرائیلی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔