ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی حکومت نے روسی خام تیل سے تیار ہونے والے ڈیزل اور جیٹ فیول کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں سے برطانوی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ محکمہ تجارت نے ایک جنرل ٹریڈ لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت تیسرے ممالک (خاص طور پر انڈیا) میں ریفائن ہونے والا روسی تیل سے تیار ڈیزل اور جیٹ فیول برطانیہ درآمد کیا جا سکے گا۔ یہ لائسنس غیر معینہ مدت کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
حکومت نے روسی مائع قدرتی گیس پر عائد پابندیوں میں بھی عارضی نرمی کر دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات محدود مدت اور مخصوص حالات کے پیش نظر لیے گئے ہیں تاکہ نئی پابندیوں پر مرحلہ وار عملدرآمد ہو سکے اور صارفین کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپوزیشن رہنما کیمی بیڈنوخ نے الزام لگایا کہ برطانیہ اس اقدام کے ذریعے یوکرین جنگ میں روس کو بالواسطہ مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور برطانیہ سمیت یورپ توانائی بحران کا شکار ہے۔