اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پررپورٹ

Pakistan Army Pakistan Army

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے روات میں واقع سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ بنیادی طور پر یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے مابین پیدا ہونے والے ایک اندرونی تنازع کا نتیجہ تھا، جو بعد میں ایک سنگین تصادم اور فائرنگ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب یونیورسٹی کے طلبہ اپنے ایک سینئر استاد اور شعبے کے سربراہ (ایچ او ڈی) ڈاکٹر جدون خان کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے یا ان کے استعفیٰ کے معاملے پر احتجاج کر رہے تھے۔ طلبہ کا مؤقف تھا کہ استاد کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے، جس پر انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا اور کیمپس کے اندر شدید نعرے بازی کرتے ہوئے انتظامی بلاک کا گھیراؤ کر لیا۔

یہ احتجاج رفتہ رفتہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے اور دونوں اطراف سے ماحول میں تلخی پیدا ہو گئی۔ احتجاج کے دوران صورتحال اس وقت مزید ابتر ہوئی جب یونیورسٹی کی ایک خاتون انتظامی افسر، ڈاکٹر آئینہ، طلبہ کو پرامن کرنے اور احتجاج ختم کروانے کے لیے وہاں پہنچیں۔ طلبہ کے مشتعل ہجوم اور خاتون افسر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جو دیکھتے ہی دیکھتے مبینہ بدسلوکی اور ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔ طلبہ کی جانب سے گھیراؤ اور دباؤ بڑھنے پر خاتون افسر نے خود کو غیر محفوظ محسوس کیا اور مدد کے لیے اپنے شوہر کو فون کر کے یونیورسٹی بلا لیا، جو کہ پاک فوج میں ایک حاضر سروس افسر ہیں۔ اپنے اہلخانہ کی حفاظت کے پیشِ نظر وہ فوجی افسر اپنی سرکاری وردی میں ہی چند دیگر افراد کے ساتھ فوری طور پر یونیورسٹی کیمپس پہنچ گئے۔

فوجی افسر کی آمد پر مشتعل طلبہ اور ان کے درمیان تلخ کلامی نے ایک انتہائی متشدد رخ اختیار کر لیا۔ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق، مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی یا ڈنڈے کا استعمال کیا گیا، جس سے ماحول مزید گرم ہو گیا۔ اس دوران طلبہ کے ہجوم کی جانب سے گھیراؤ سخت ہونے اور تصادم بڑھنے پر خوف و ہراس پھیلانے یا دفاع کی غرض سے ہوائی فائرنگ کی گئی، جس کی آواز سنتے ہی کیمپس میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور طلبہ اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ خوش قسمتی سے اس فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان یا گولی لگنے کا واقعہ سامنے نہیں آیا، تاہم یونیورسٹی کا ماحول مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔

واقعے کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول میں لیا اور کیمپس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اس سنگین واقعے کا نوٹس اعلیٰ حکام اور پاک فوج کے متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی لیا گیا، کیونکہ اس میں ایک سرکاری وردی پوش افسر کا ملوث ہونا اور تعلیمی ادارے کے اندر ہتھیار کا استعمال شامل تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کا تعین کیا جا سکے، جبکہ دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح ایک تعلیمی تنازع کو ذاتی اثر و رسوخ استعمال کر کے ایک بڑے سیکیورٹی بحران میں تبدیل کیا گیا۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں طلبہ اور انتظامیہ کے تعلقات اور وہاں سیکیورٹی کے پروٹوکولز پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔