ہومپاکستاننومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی میں امریکا یورپ اور برطانیہ...

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی میں امریکا یورپ اور برطانیہ سے تعلقات کی اہمیت، روس کو یکسر نظر انداز کردیا

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی میں امریکا یورپ اور برطانیہ سے تعلقات کی اہمیت، روس کو یکسر نظر انداز کردیا

اسلام آباد (صداۓ روس)
قومی اسمبلی میں بطور وزیراعظم اپنے پہلے خطاب میں نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین کے ساتھ ہماری دوستی لازوال ہے، سی پیک پر کام میں تیزی لائیں گے. شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، سعودیہ سمیت تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کریں گے، امریکا کے ساتھ بھی تعلقات بہتر کریں گے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف مزید کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک بشمول بھارت سے اچھے تعلقات چاہتا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ عقلمندی کا مظاہرہ کریں اور کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کریں. ان کا کہنا تھا کہ ہم کشمیریوں، فلسطینیوں اور افغانستان کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم بردار ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ ہم ترکی،یورپی یونین، اور برطانیہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں. برطانیہ نے پاکستان کی کروڑوں پونڈ دے کر امداد کی ہے، جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا. شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا میں ہماری برآمدات ہیں لہذا ان ممالک سے تعلقات خراب کرانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا. یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے جہاں پارلیمنٹ کو اپنے خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے دنیا کے اہم ممالک کا حوالہ دیا وہاں انہوں نے روس کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے روس کا ذکر تک نہیں کیا. یہ محض اتفاق تھا یا جان بوجھ کر کیا گیا؟ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے روس سے تعلقات پر کوئی بات نہ کی. یاد رہے روس دنیا کا ایک اہم ملک ہے اور پاکستان کا شراکت دار ہے جس نے پاکستان کے دفاع، اقتصادیت، صنعت، اور توانائی کے شعبے میں تعاون کیا ہے. روس نے گزشتہ دور حکومت میں پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ لیا تھا جو کراچی سے لاہور تک 1200 کلومیٹر پر محیط ہے. روس دفاعی شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ گہرا تعاون کرتا ہے لیکن نومنتخب وزیراعظم پاکستان کا روس کو اس طرح نظر انداز کرنا بہت سوال اٹھائے گا.

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل