’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — آخری قسط

آخری قسط:
کولاب سے دوشنبہ واپسی، قلمی نسخوں کی تلاش اور تاجکستان سے یادگار رخصتی
اشتیاق ہمدانی –

جہاز میں اپنی نشست پر بیٹھا تو کھڑکی سے باہر دوشنبہ کے ہوائی اڈے کی روشنیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ چند لمحوں بعد یہی روشنیاں پیچھے رہ جانے والی تھیں، مگر ان نو دنوں میں جو کچھ دیکھا، جن لوگوں سے ملاقات ہوئی اور جن احساسات سے گزرا، انہیں اپنے ساتھ لے کر واپس جارہا تھا۔

اکیس سال پہلے جب پہلی مرتبہ تاجکستان آیا تھا تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن اس سرزمین پر دوبارہ آؤں گا اور اس مقام تک پہنچنے کا موقع ملے گا جس کا نام بچپن سے اپنے خاندان کے بزرگوں کی زبان سے سنتا آیا ہوں۔

اس مرتبہ تاجکستان کا سفر ایک بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے کی صحافتی کوریج سے شروع ہوا تھا، مگر اس کا سب سے قیمتی حاصل کولاب میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار پر حاضری تھی۔

دوشنبہ کی کشادہ شاہراہیں، کوہی نوروز کی دلکش عمارت، مختلف ملکوں کے کھلاڑیوں کی سرگرمیاں، بوختار میں ہماری پذیرائی، جمشید کے ساتھ پہاڑی راستوں کا سفر، کولاب کے لوگوں کی محبت اور مزار کے احاطے کا پُرسکون ماحول، سب ایک ایک کرکے ذہن میں تازہ ہورہے تھے۔

لیکن ان تمام مناظر میں ایک تصویر سب سے زیادہ نمایاں تھی۔

کولاب کے میوزیم کی دیوار پر آویزاں ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب کی تصویر۔

اس تصویر نے مجھے کئی دہائیاں پیچھے پہنچا دیا تھا۔ وہ خاندانی نشست، میرے مرحوم والد صاحب، بھائی بہن، خاندان کے بزرگ اور ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب کی زبان سے تاجکستان کے سفر کی روداد سننے والا ایک کم عمر لڑکا۔

اس لڑکے نے شاید اس وقت تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ برسوں بعد وہ خود اسی تاریخی مقام پر پہنچے گا، جہاں کبھی کسی دوسرے مسافر کی زبانی سنائی گئی داستان اس کے دل میں محفوظ ہوگئی تھی۔

آج وہ لڑکا زندگی کی کئی منزلیں طے کرکے کولاب سے واپس آرہا تھا۔

مگر افسوس، وہ بزرگ اب ساتھ نہیں تھے جن کے سامنے بیٹھ کر اس سفر کی روداد سنانے کی خواہش دل میں پیدا ہوتی تھی۔

ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آسکتا، لیکن ان کی یادیں، ان کی باتیں اور ان سے ملنے والا تہذیبی ورثہ آج بھی زندگی کا حصہ ہیں۔

شاید یہی نسلوں کے درمیان سب سے خوبصورت رشتہ ہے کہ ایک نسل جو داستان سناتی ہے، دوسری نسل کبھی نہ کبھی اس کے نقوش تلاش کرنے نکل پڑتی ہے۔

مجھے محسوس ہوا کہ اس سفر میں میں صرف کولاب نہیں گیا تھا، بلکہ اپنی زندگی کے ایک ایسے حصے تک بھی پہنچا تھا جو وقت کی گرد میں کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔

اس سارے سفر میں جن لوگوں نے محبت دی، راستے آسان کیے، ہمارے لیے وقت نکالا اور ہمیں اپنے ملک کی خوبصورتی سے متعارف کروایا، ان سب کا خلوص بھی یاد رہے گا۔ جولیا درووکینا کا تعاون، ناظر علی صاحب کی مہمان نوازی، سائرہ اشرف صاحبہ کی معاونت، مقامی دوستوں کی توجہ، صوبہ ختلان کے محکمہ سیاحت کے میزبانوں کی پذیرائی اور جمشید کی خوش اخلاقی نے اس سفر کو صرف ایک صحافتی دورہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے انسانوں کے درمیان محبت اور اعتماد کی ایک خوبصورت داستان بنادیا۔

دوشنبہ کے ہوائی اڈے پر حسین صاحب سے ہونے والی غیر متوقع ملاقات اور ڈیوٹی فری شاپ میں کشمیری دستکاریوں سے ملتی جلتی تاجک مصنوعات کا مشاہدہ بھی اس داستان کا ایک خوبصورت اختتامی باب بن گیا۔

کولاب کے میوزیم میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے سفروں کا نقشہ دیکھتے ہوئے جن تاریخی روابط کے بارے میں سوچ رہا تھا، روانگی کے آخری لمحات میں وہی روابط ایک بار پھر میرے سامنے آگئے تھے۔

ایسا محسوس ہوا جیسے یہ سفر اپنی ابتدا اور اختتام کو ایک ہی تاریخی دھاگے میں پرو گیا ہو۔

ایک طرف کشمیر تھا، دوسری طرف تاجکستان۔

درمیان میں صدیوں کی تاریخ، پہاڑ، دریا، شہر، سلطنتیں اور بدلتی ہوئی سرحدیں۔

مگر ان سب کے باوجود زبان، علم، تصوف، ہنر اور تہذیب کے وہ رشتے کسی نہ کسی صورت آج بھی موجود تھے۔

جہاز نے آہستہ آہستہ حرکت شروع کی۔

میں نے کھڑکی سے باہر آخری مرتبہ دیکھا۔

دوشنبہ کی روشنیاں اب دور ہوتی جارہی تھیں۔

دل میں ایک اطمینان تھا کہ برسوں کی خواہش پوری ہوگئی، لیکن اسی اطمینان کے اندر ایک نئی جستجو بھی جنم لے چکی تھی۔


حضرت شاہِ ہمدانؒ کے علمی ورثے، ان کے قدیم قلمی نسخوں، کشمیر اور ختلان کے تاریخی تعلقات اور خاندان کی محفوظ روایات کے بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی تھا۔

میں جانتا تھا کہ یہ سب سوال ایک مختصر سفر میں حل نہیں ہوسکتے۔

ان کے لیے وقت چاہیے، تحقیق چاہیے، قدیم دستاویزات تک رسائی چاہیے اور تاریخ کو سمجھنے کا صبر چاہیے۔

اس لیے تاجکستان سے رخصت ہوتے ہوئے دل میں ایک عہد بھی تھا کہ موقع ملا تو دوبارہ آؤں گا۔

کولاب کی ان گلیوں میں پھر چلوں گا، حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار پر دوبارہ حاضری دوں گا، ان کے علمی ورثے کے مزید نقوش تلاش کروں گا اور ان تاریخی رشتوں کو سمجھنے کی کوشش جاری رکھوں گا جو ہمارے ماضی کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔

جہاز فضا میں بلند ہوا تو دوشنبہ کی روشنیاں آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہونے لگیں۔

اس لمحے میرے ذہن میں ایک خیال ابھرا۔

ہم زندگی میں کتنے ہی سفر کرتے ہیں، لیکن ہر سفر ہمیں اپنے آپ سے نہیں ملواتا۔ بعض راستے ہمیں نئی دنیا دکھاتے ہیں، بعض نئے لوگوں سے متعارف کرواتے ہیں اور بعض ہمیں اپنے ہی ماضی کے کسی بھولے ہوئے دروازے تک لے جاتے ہیں۔

دوشنبہ سے کولاب کا یہ سفر میرے لیے انہی میں سے ایک تھا۔

میں ماسکو سے ایک صحافتی ذمہ داری کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن واپس آتے ہوئے میرے پاس صرف ایک مکمل رپورٹ، تصاویر اور ویڈیوز نہیں تھیں۔

میرے پاس بچپن کی تازہ ہونے والی یادیں تھیں، مرحوم والد صاحب کی محبت سے جڑی ہوئی ایک پرانی داستان تھی، تاجک دوستوں کی مہمان نوازی تھی اور ایک ایسے تاریخی تعلق کو قریب سے دیکھنے کا اطمینان تھا جسے برسوں سے صرف کتابوں اور بزرگوں کی گفتگو میں تلاش کرتا آیا تھا۔

میں نے کھڑکی سے باہر پھیلی ہوئی تاریکی کو دیکھا۔

دوشنبہ اب دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر کولاب کا وہ روشن دروازہ اب بھی میرے ذہن میں موجود تھا۔

اور مجھے محسوس ہوا کہ شاید بعض سفر منزل پر پہنچ کر نہیں، بلکہ وہاں سے واپس لوٹتے ہوئے اپنا اصل مفہوم واضح کرتے ہیں۔

اس سفر کا آغاز ماسکو کے ونوکووو ہوائی اڈے پر ہوا تھا، مگر اس کی اصل ابتدا شاید کئی دہائیاں پہلے اس خاندانی نشست میں ہوگئی تھی جہاں ایک کم عمر لڑکے نے پہلی مرتبہ کولاب جانے والے ایک مسافر کی داستان سنی تھی۔

وقت نے اس لڑکے کو بہت سے راستوں سے گزارا، کئی شہروں اور ملکوں تک پہنچایا، مگر بالآخر ایک دن اسے اسی داستان کی منزل تک بھی پہنچا دیا۔

آج اس منزل سے واپس آتے ہوئے دل میں ایک ہی احساس تھا۔

کچھ خواہشیں دیر سے ضرور پوری ہوتی ہیں، لیکن ان کا انتظار رائیگاں نہیں جاتا۔

ماسکو سے دوشنبہ کا سفر ختم ہوچکا تھا۔

دوشنبہ سے کولاب کی مسافت بھی طے ہوگئی تھی۔

مگر وہ راستہ جو کولاب سے میرے بچپن کی یادوں، اپنے مرحوم والد صاحب اور خاندان کی صدیوں پرانی روایتوں تک جاتا تھا، اب ہمیشہ کے لیے میری زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔

بعض سفر نقشے پر ختم ہوجاتے ہیں، مگر انسان کی یادداشت میں ہمیشہ جاری رہتے ہیں۔

دوشنبہ سے کولاب کا یہ سفر بھی ایسا ہی تھا۔

اس کا آخری پڑاؤ ماسکو تھا، لیکن اس کی منزل میرے دل میں ہمیشہ کولاب رہے گی۔

اللہ حافظ
امیر جان-
قسط اول پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط اول:

قسط دوئم پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط دوئم:

قسط اول پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط سوئم:

قسط اول پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط چہارم