
کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –
آخری قسط – :
اشتیاق ہمدانی – ماسکو نامہ
واپسی کا سفر اور ذہن میں رہ جانے والے سوال
شام ڈھل چکی تھی۔
اسٹاروبیلسک میں گزارا گیا دن اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
کالج، ہاسٹل، یادگاری مقام، ہسپتال اور پریس بریفنگ کے بعد اب واپسی کا وقت تھا۔
تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہم دوبارہ اسی خصوصی طیارے کی طرف روانہ ہوئے جو صبح ہمیں ماسکو سے لے کر آیا تھا۔
دن بھر کی مصروفیات کے بعد صحافیوں کے چہروں پر تھکن نمایاں تھی، لیکن یہ صرف جسمانی تھکن نہیں تھی۔
یہ ایک ایسا دن تھا جس میں ہر شخص نے کچھ ایسا دیکھا تھا جو آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
جہاز میں روسی انداز میں کھانے اور جوس کا انتظام موجود تھا، لیکن پورے سفر میں خاموشی کا غلبہ تھا۔
کئی صحافی اپنے لیپ ٹاپ کھولے بیٹھے تھے۔
کوئی تصاویر منتخب کر رہا تھا۔
کوئی ویڈیوز ایڈٹ کر رہا تھا۔
کوئی اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کر رہا تھا۔
اور کئی صحافی جہاز ہی سے اپنے اداروں کو تصاویر، ویڈیوز اور خبریں بھیج رہے تھے۔
بعض نے تو پرواز شروع ہوتے ہی لائیو اپ ڈیٹس دینا شروع کر دی تھیں۔
ہم نے بھی کوشش کی کہ جلد از جلد اپنی ریکارڈنگ اور تصاویر پاکستان کے مختلف میڈیا اداروں تک پہنچائیں۔
اگرچہ بعض اوقات انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہو رہی تھی، لیکن مجموعی طور پر رابطہ برقرار تھا اور صحافی مسلسل اپنے دفاتر سے منسلک تھے۔
میرے ساتھی اور نوجوان ویڈیو جرنلسٹ حسن رضا بھی مسلسل کام میں مصروف تھے۔
وہ پورے دن کی ریکارڈنگ کو ترتیب دے رہے تھے۔
کالج کی تصاویر۔
ہاسٹل کے مناظر۔
یادگاری مقام۔
انسانی حقوق کمشنر کی گفتگو۔
گورنر کی پریس بریفنگ۔
اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے صحافیوں کے تاثرات۔
یہ سب کچھ اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔
جہاز کے اندر خاموشی تھی، لیکن ہر شخص اپنے انداز میں مصروف تھا۔
کسی کے سامنے لیپ ٹاپ کھلا تھا۔
کسی کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔
اور کوئی کھڑکی سے باہر رات کے اندھیرے کو دیکھ رہا تھا۔
میں بھی اپنی نوٹس، تصاویر اور دن بھر کے مشاہدات کو ذہن میں ترتیب دے رہا تھا۔
لیکن سچ یہ ہے کہ میرے ذہن میں بار بار وہی منظر آ رہا تھا۔
وہ طویل راہداری۔
فرش پر بکھرے ہوئے کانچ کے ٹکڑے۔
وہ کمرے جن میں چند روز پہلے تک زندگی آباد تھی۔
وہ بسترے جن پر خواب سویا کرتے تھے۔
وہ کتابیں جن سے مستقبل تعمیر ہونا تھا۔
اور وہ خاموش ماحول جو آج بھی ذہن میں گونجتا ہے۔
میں بار بار یہی سوچ رہا تھا کہ رات کے اس اندھیرے میں، جب ہر طرف خوف، دھواں اور افراتفری پھیلی ہوگی، تو وہاں موجود نوجوان کس کیفیت سے گزرے ہوں گے۔
شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب کوئی رپورٹ، کوئی تصویر اور کوئی ویڈیو مکمل طور پر نہیں دے سکتی۔
رات گئے ہمارا طیارہ ماسکو پہنچ گیا۔
ائیرپورٹ پر پہلے سے موجود خصوصی گاڑیوں کے ذریعے صحافیوں کو واپس شہر لایا گیا۔
پورا دن ایک ساتھ گزارنے کے بعد مختلف ممالک کے صحافی ایک دوسرے سے اگلی ملاقات تک خدا حافظ کہہ رہے تھے۔
کوئی اپنے دفتر جا رہا تھا۔
کوئی اپنے گھر۔
اور کوئی شاید سیدھا اپنی رپورٹ مکمل کرنے بیٹھنے والا تھا۔
میں بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
جسمانی طور پر یہ سفر ختم ہو چکا تھا۔
لیکن ذہنی طور پر نہیں۔
کچھ سفر منزل پر پہنچ کر بھی ختم نہیں ہوتے۔
اسٹاروبیلسک کا یہ سفر بھی ایسا ہی تھا۔
یہ صرف ایک صحافتی دورہ نہیں تھا۔
یہ ایک ایسا دن تھا جس میں جنگ اور تنازعے کی سرخیوں کے پیچھے چھپے انسانی چہرے دکھائی دیے۔
ایسے چہرے جن کے خواب تھے۔
منصوبے تھے۔
مستقبل تھا۔
اور پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔
اس پورے سفر کے بعد ایک اطمینان ضرور تھا۔
یہ اطمینان کہ ہم وہاں تک پہنچے جہاں عام حالات میں رسائی آسان نہیں ہوتی۔
ہم نے اپنی آنکھوں سے حالات کا مشاہدہ کیا۔
ہم نے مختلف پہلوؤں کو دیکھا، سنا اور سمجھنے کی کوشش کی۔
اور پھر اپنی صحافتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان مشاہدات کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔
اس پورے دورے کے انعقاد کا کریڈٹ روسی وزارتِ خارجہ کو بھی جاتا ہے جس نے مختلف ممالک کے صحافیوں کے لیے اس دورے کا انتظام کیا اور انہیں موقع فراہم کیا کہ وہ خود حالات کا جائزہ لیں۔
آج جب میں اس سفر کو یاد کرتا ہوں تو میرے ذہن میں سب سے پہلے کوئی سیاسی بیان، کوئی پریس کانفرنس یا کوئی سرخی نہیں آتی۔
میرے ذہن میں سب سے پہلے ایک راہداری آتی ہے۔
ایک خاموش راہداری۔
جس کے فرش پر کانچ کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔
اور شاید اسی لیے اس سفر کی سب سے سچی تصویر بھی وہی ہے۔
کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش۔
پچھلی قسط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –