ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کی کارروائیوں سے متعلق یورپ کو واضح سمجھ نہیں آ رہی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ عالمی بحری راستوں پر کسی قسم کا ٹیکس یا فیس عائد کرنے کو تسلیم نہ کیا جائے، کیونکہ یہ راستے ہمیشہ سے سب کے لیے کھلے رہے ہیں۔
کایا کالس نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے دنیا بھر میں شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس سے عالمی سطح پر مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ تعاون فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ سمندری ناکہ بندی کے اعلان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔