ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے امکان سے گریز کریں گے اور انہیں یہ ادراک ہو چکا ہے کہ اس تنازع کا آغاز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم از کم ایک فریق کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اور اگر ایران سے متعلق موجودہ کشیدگی کسی جنگ بندی یا سیز فائر کی صورت میں ختم ہوتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ سیاسی نقصان ٹرمپ کو ہو سکتا ہے۔ دی اکانومسٹ کے مطابق ایران کے خلاف حالیہ تنازع نے امریکی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ٹرمپ کے نقطہ نظر کی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا ہے، جبکہ نئی جنگ عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر سکتی ہے، جس کے سیاسی اثرات ان کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے تین اہم اہداف—مشرق وسطیٰ کو محفوظ بنانا، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا—اب تک مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس بھی پسپائی کی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ اس کی قیادت شدید دباؤ میں ہے اور توانائی و نقل و حمل کے نظام کو نقصان پہنچنے سے ملک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جریدے کے مطابق ایران پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے، تاہم اسے یہ بھی اندازہ ہے کہ وقت کے ساتھ مذاکراتی پوزیشن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی جوہری خطرات کو بڑھا سکتی ہے، کیونکہ اگرچہ ایران کی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں، لیکن اس کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے جو ممکنہ طور پر متعدد ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔