ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
حزب اللہ کے رہنما محمود قماتی نے کہا ہے کہ روس اپنے وسیع سفارتی تعلقات کے باعث مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسپوتنک کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ روس کے ایران اور متعدد عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اسے خطے میں ایک مؤثر ثالث بنا سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا روس کے ممکنہ کردار میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے، جبکہ بیک وقت وہ ایران پر اثرانداز ہونے کے لیے ماسکو سے رجوع بھی کر رہا ہے۔ محمود قماتی کے مطابق بالآخر امریکا کو خطے میں استحکام کے لیے روس کے کردار کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے محتاط اور “حقیقت پسندانہ” مؤقف رکھتی ہے، اس لیے اس سمت میں فوری پیش رفت کا امکان کم ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ امریکا نے شام پر مشرقی اور شمالی لبنان میں محاذ کھولنے کے لیے دباؤ ڈالا، تاہم دمشق نے اسے اپنے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے یوکرین کی جانب سے ایران اور مزاحمتی گروہوں کے خلاف مدد کی پیشکش کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ حزب اللہ رہنما کا کہنا تھا کہ لبنان میں عوامی دباؤ کے باعث حکومت میں تبدیلی بھی ممکن ہے، جہاں بڑی تعداد میں عوام حزب اللہ کی حمایت کرتے ہیں۔