ہومتازہ ترینروس امریکہ فوجی تصادم کا خطرہ

روس امریکہ فوجی تصادم کا خطرہ

روس امریکہ فوجی تصادم کا خطرہ

ماسکو(صداۓ روس)
روس امریکہ فوجی تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے. امریکہ میں متعین روس کے سفیر آناتولی آنتونوف کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک یوکرین کو ہتھیاروں او فوجی سازو سامان کی مسلسل ترسیل کرتے ہوئے، حالات میں براہ راست مداخلت اور جنگ کو مزید ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانس نے جو اچانک یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچے ہیں، اپنے یوکرینی ہم منصب ولایمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات میں یوکرین کے لیے نئے امدادی پیکج کا اعلان کیا۔ یورپی کمیشن کے سربراہ اورزولا فونڈرلائن نے بھی یوکرین کے لیے دس ارب یورو سے زیادہ فنڈ جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھریورپی یونین کے امور خارجہ کے انچارج جوزف بورل نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تصادم کو عسکری طریقے سے حل کیے جانے پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بحران یوکرین کے بارے میں جوزف بورل کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحران اور تشدد جاری رکھنے کی بات کرنے والے عہدیدارکو فوری برطرف کردینا چاہیے۔ روسی پارلیمنٹ دوما کے اسپیکر ویاچسلاؤ ولودین نے یورپی یونین کے رکن ملکوں سے کہا ہے کہ وہ جوزف بورل کو فوری طور پر ان کے عہدے سے برطرف کردیں، کیونکہ وہ یوکرین میں جاری جھڑپوں کو سفارت کاری کے بجائے عسکری طریقے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی اپنے ایک بیان میں یورپی یونین کے امورخارجہ کے انچارج جوزف بورل کے بیان کی مذمت کی ہے۔

ماسکو اس سے پہلے بھی امریکہ اور یورپی یونین کو یوکرین میں رونما ہونے والے تمام واقعات، بشمول عام شہریوں کی ہلاکتوں اور ان کی دربدری کا براہ راست ذمہ دارقرار دیتا آیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ نیٹو اور واشنگٹن نہیں چاہتے کہ یوکرین کسی بھی بلاک سے وابستگی کے بغیر ایک آزاد اور خود مختار ملک بن کر رہے ۔
یوکرین میں جاری جنگ کے بارے میں عالمی سطح پر ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے اور روس کے خلاف سفارتی دباؤ، دھمکیوں اور عالمی پابندیوں میں اضافے کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل