ہومانٹرنیشنلبھارتی ڈرونز کے غزہ میں استعمال پر ملک میں غم و غصہ

بھارتی ڈرونز کے غزہ میں استعمال پر ملک میں غم و غصہ

بھارتی ڈرونز کے غزہ میں استعمال پر ملک میں غم و غصہ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان خدشات کی بنا پر کہ بھارتی ساختہ ڈرونز غزہ میں حملوں میں استعمال کیے جائیں گے، اپنی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حیدرآباد میں قائم ’اڈانی ایلبٹ‘ نے اسرائیلی فوج کو گذشتہ ماہ ٢٠ ہرمیس ٩٠٠ ڈرون فراہم کیے تھے۔ یہ بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ اڈانی گروپ اور اسرائیل کی ’ڈیفنس الیکٹرانکس کمپنی‘ کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔

جنوبی بھارت میں موجود یہ جگہ اسرائیل سے باہر پہلا ایسا مقام ہے جہاں ہرمیس ٩٠٠ تیار کیے جاتے ہیں۔ اس ڈرون کا غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں میں فعال طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اب تک ٣١ ہزارفلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق ١٧ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
ہیومین رائٹس فورم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہیومن رائٹس فورم (ایچ آر ایف) اسرائیل کے ساتھ اڈانی کے حالیہ معاہدوں کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میں غزہ میں فلسطینیوں کی جاری نسل کشی میں مدد کے لیے جدید ڈرون بھیجنا شامل ہے۔‘
’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت اسرائیل کے ساتھ اس طرح کے تمام معاہدے فوری طور پر منسوخ کرے۔‘
بھارت کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات ہیں۔ اور بھارت اسرائیلی فوجی ساز وسامان خریدنے والے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس نے گذشتہ دہائی میں اسرائیل سے تقریباً دو ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے ہیں۔
ایچ آر ایف کا کہنا تھا کہ کہ فلسطین ’جنگی ٹیکنالوجیز کی تجربہ گاہ‘ ہے۔ اور اسرائیل عالمی سطح پر اپنی اس ’کامیاب نسل کشی‘ کی تشہیر کر رہا ہے۔ ایچ آر ایف کے بیان پر دستخط کرنے والے وی ایس کرشنا نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ بھارتی حکومت اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ بالخصوص غزہ میں کیے جانے والے اقدامات کو یکسر مسترد کرے۔‘
صحافی اور بھارتی کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ کی سینیئر فیلو پامیلا فلیپوس نے بھی فلسطین کے ساتھ بھارت کی تاریخی قربت کی طرف توجہ دلائی۔
انہوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر بھارت کے لوگ جاگیں۔۔۔ چاہے گاندھی اور نہرو سے لے کر مسز گاندھی تک سب نے کہا کہ فلسطینیوں کے حقوق کی حفاظت کی ضرورت ہے اور بھارت فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اڈانی گروپ کی جانب سے اسرائیل کو ڈرونز کی ایکسپورٹ ’بہت پریشان کن‘ ہے، خاص طور پر جب بھارت ٹھیک سے فلسطین کی حمایت نہیں کر رہا ہے بلکہ دراصل غزہ پر حملوں میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے، جسے بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایک قابل مذمت نسل کشی قرار دیا ہے۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں