امریکا۔ایران جنگ: کیا یہ جنگ واقعی واشنگٹن کے لیے ضروری تھی؟

F-18 F-18

اشتیاق ہمدانی (صداۓ روس)

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اب بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آیا یہ تنازع واقعی ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کے لیے ضروری تھا یا نہیں۔ مختلف ماہرین اور تجزیہ کار اس جنگ کو ایک غیر ضروری اور نقصان دہ مہم قرار دے رہے ہیں، جس کے نتائج واشنگٹن کے حق میں جاتے دکھائی نہیں دیتے۔

سیکیورٹی امور کے ماہر اور سابق انٹیلیجنس افسر نورلان دوسالیف کے مطابق اس جنگ سے امریکا کو نہ تو معاشی فائدہ حاصل ہوا اور نہ ہی عسکری یا سیاسی سطح پر کوئی واضح کامیابی ملی۔ ان کے بقول اس کے برعکس امریکا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کا اعتماد بھی متزلزل ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے پیچھے بڑے جیوپولیٹیکل عوامل کارفرما ہیں، جن میں اسرائیل کے مفادات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل ایران کو کمزور کرنے یا اس میں تبدیلی لانے کی طویل المدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اور امریکا اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اسرائیلی قیادت کے امریکا کے بار بار دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ بعض حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو ایک تیز اور فیصلہ کن فتح کا خواب دکھا کر اس جنگ میں دھکیلا گیا۔

تاہم زمینی حقائق اس تصور کے برعکس سامنے آئے۔ ایران نے نہ صرف شدید مزاحمت کی بلکہ اپنی عسکری اور حکومتی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے جوابی کارروائیاں بھی جاری رکھیں۔ اس دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے امریکی دفاعی نظام کی کمزوریاں بھی نمایاں ہوئیں۔

مزید برآں، اس جنگ کے باعث یورپی ممالک نے بھی محتاط رویہ اختیار کیا اور براہ راست مداخلت سے گریز کیا۔ ناٹو اتحادیوں کی جانب سے محدود یا عدم تعاون نے بھی امریکا کی پوزیشن کو کمزور کیا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع طویل ہوتا ہے یا زمینی جنگ کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایسے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آیا یہ جنگ واقعی ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا یا ایک اسٹریٹجک غلطی۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے باوجود امریکا اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ طویل مزاحمت کے لیے بھی تیار ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ جنگ امریکا کے لیے ایک پیچیدہ اور غیر یقینی راستہ اختیار کر چکی ہے، جس کے نتائج ابھی واضح نہیں لیکن خطرات ضرور بڑھتے جا رہے ہیں۔