ہومانٹرنیشنلامریکہ میں مہنگائی کا ذمہ دار روس نہیں، امریکی سینٹرل بینک

امریکہ میں مہنگائی کا ذمہ دار روس نہیں، امریکی سینٹرل بینک

امریکہ میں مہنگائی کا ذمہ دار روس نہیں، امریکی سینٹرل بینک

واشنگٹن (انٹرنیشنل)
امریکی سینٹرل بینک نے کہا کہ امریکہ میں مہنگائی کا ذمہ دار روس نہیں ہے. امریکی صدر کی جانب سے یوکرین پر روسی فوجی حملے کو امریکہ میں افراط زر بڑھنے کی وجہ قرار دیئے جانے کے بارے میں اصرار کے باوجود امریکی فیڈرل رزرو کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ میں افراط زر بڑھنے کی وجہ روسی فوجی حملے کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل بینک کے سربراہ جروم پاول نے امریکی سینیٹ کی بینکاری امور کی کمیٹی کے اجلاس میں کہا ہے کہ یوکرین پر روسی فوجی حملے سے قبل ہی امریکہ میں افراط زر کی شرح زیادہ رہی ہے ۔ ان کا یہ بیان سینیٹر بل ہیگرٹی کے بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ ہیگرٹی نے دعوی کیا تھا کہ دسمبر دو ہزار بیس میں امریکہ میں افراط زر کی شرح ایک اعشاریہ چار فیصد تھی جو جنوری دو ہزار اکیس میں جوبائیڈن کے برسرافتدار آنے کے بعد سات فیصد تک پہنچ گئی اور جب روسی ٹینکوں نے یوکرین کی سرحدوں کو عبور کیا تو افراط زر کی شرح آٹھ اعشاریہ چھے فیصد تک جا پہنچی۔

ہیگرٹی نے ان اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے پاول سے پوچھا ہے کہ کیا یوکرین کی جنگ امریکہ میں افراط زر بڑھنے کا عامل ہے جیساکہ جوبائیڈن حکومت بھی یہی ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔ اس کے جواب میں امریکی سینٹرل بینک کے سربراہ جروم پاول نے کہا کہ یوکرین میں روسی فوجی آپریشن سے قبل ہی امریکہ میں افراط زر کی شرح زیادہ رہی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی صدر نے برکس کی تجارتی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں مغربی اقدامات کو دنیا میں اقتصادی بحران کا باعث قرار دیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیرپوتن نے کہا ہے کہ سیاسی محرکات کی حامل پابندیاں بارہا عائد کی جاتی رہی ہیں جس کی بنا پر دباؤ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقتصادی روابط کی پہلی کڑی کے طور پر نقل و حمل کا سلسلہ زوال سے دوچار ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ولادیمیرپوتن نے کہا کہ تجارتی سرگرمیوں میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ، غذائی سلامتی کا مسلسل فقدان اور بڑھتی مہنگائی، یہ سب دنیا میں بحران کے شدت اختیار کرجانے کا باعث بن رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ برکس کے رکن ملکوں کو اس وقت تجارتی تعلقات میں سخت حالات کا سامنا ہے اس لئیے کہ مغربی ملکوں کی جانب سے آزاد تجارت کے بنیادی اصول کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ مغرب غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط اقتصادی راستے پر چل رہا ہے جس کے نتیجے میں اقتصادی جمود اور بحران مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل