ہومانٹرنیشنلچینی صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان سربراہی...

چینی صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان سربراہی ملاقات

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چینی صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر جو بائیڈن نے سان فرانسسکو کے فلولی اسٹیٹ میں ایک سربراہی ملاقات کی۔ دونوں سربراہان مملکت نے چین۔امریکہ تعلقات کی سمت اور عالمی امن اور ترقی کو متاثر کرنے والے بڑے مسائل پر اہم تزویراتی ، جامع اور مفصل تبادلہ خیال کیا۔
مذاکرات کے بعد صدر بائیڈن نے صدر شی جن پھنگ کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ دونوں سربراہان مملکت نے مشترکہ تشویش کے بین الاقوامی اور علاقائی مسائل جیسے فلسطین اسرائیل تنازع پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ ایک صدی میں نظر نہ آنے والی عالمی تبدیلیوں کے دور میں چین اور امریکہ کے پاس دو راستے ہیں۔ایک ، یہ کہ یکجہتی اور تعاون کو بڑھانا اور عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہاتھ ملانا اور عالمی سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینا؛ اور دوسرا ، یہ کہ زیرو سم کی ذہنیت سے چمٹے رہنا، دشمنی اور تصادم کو ہوا دینا، اور دنیا کو انتشار اور تقسیم کی جانب لے جانا ہے۔یہ دو انتخاب دو مختلف سمتوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو انسانیت اور کرہ ارض کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ چین۔امریکہ تعلقات، جو دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں،کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ چین اور امریکہ کے لیے ایک دوسرے سے منہ موڑنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ ایک فریق کے لیے دوسرے کو بدلنا غیر حقیقی ہے اور تصادم اور محاذ آرائی کے دونوں فریقوں کے لیے ناقابل برداشت نتائج ہو سکتے ہیں۔ بڑے ممالک کا مقابلہ چین اور امریکہ یا دنیا کو درپیش مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ دنیا میں چین اور امریکہ کے لیے وسیع گنجائش موجود ہے، اور ایک ملک کی کامیابی دوسرے کے لیے ایک موقع ہے۔
صدر شی جن پھنگ نے چینی جدیدکاری کی بنیادی خصوصیات اور اس کی اہمیت، چین کی ترقی کے امکانات اور اس کے تزویراتی عزائم پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین کی ترقی اس کی فطری منطق اور حرکیات پر منحصر ہے۔ چین ، چینی جدیدکاری کے ذریعے تمام محاذوں پر چینی قوم کے عظیم احیاء کو فروغ دے رہا ہے۔ چین نوآبادیات اور لوٹ مار کا پرانا راستہ اختیار نہیں کرے گا، یا بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ بالادستی حاصل کرنے کا غلط راستہ نہیں اپنائے گا۔ چین اپنے نظریے کو برآمد نہیں کرتا اور نہ ہی کسی ملک کے ساتھ نظریاتی محاذ آرائی میں ملوث ہوتا ہے۔ چین کا امریکہ کو پیچھے چھوڑنے یا اس کی جگہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اسی طرح امریکہ کو بھی چین پر دباؤ ڈالنے اور اس پر قابو پانے کی منصوبہ بندی نہیں کرنی چاہیے۔

انٹرنیشنل

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں